
تحریر: ڈاکٹر عبدالقیوم اعوان
ہر سال 31 مئی کو دنیا بھر میں ” سگریٹ نوشی کیخلاف عالمی دن ” منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے عوام کو آگاہ کرنا اور صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے اگر کسی ادارے نے مسلسل، مؤثر اور نتیجہ خیز کردار ادا کیا ہے تو وہ پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) ہے جس کی خدمات نصف صدی پر محیط ہیں۔
پناہ نے دل کی بیماریوں، تمباکو نوشی کے نقصانات اور صحت عامہ کے فروغ کے لیے جو جدوجہد کی ہے وہ قومی سطح پر ایک روشن مثال ہے۔پناہ نے نہ صرف آگاہی مہمات چلائیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی۔
پناہ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سگریٹ کی ڈبیوں پر صحت سے متعلق تصویری وارننگز کے نفاذ کے لیے بھرپور جدوجہد شامل ہے۔
عوامی صحت کے ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سگریٹ کے پیکٹوں پر واضح انتباہ نے نوجوانوں اور نئے صارفین کو تمباکو نوشی سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس سلسلے میں پناہ کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے حکومتی اداروں اور قانون سازوں کو اس اہم مسئلے کی جانب متوجہ کیا۔
تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم میں بھی پناہ نے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ملک بھر میں سیمینارز، واکس، کانفرنسز اور تعلیمی پروگراموں کے ذریعے لاکھوں افراد تک یہ پیغام پہنچایا گیا کہ تمباکو انسانی صحت کا خاموش قاتل ہے۔
یہ ادارہ صرف تقاریر تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی میدان میں بھی سرگرم رہا ہے۔عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت کے لیے پناہ کی جدو جہد کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور باقاعدہ قانون سازی کی گئی اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی ممنوع قرار دی گئی۔
مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ جنرل ذوالفقار اور راقم کی جانب سے لگایا گیا آگاہی کا پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔
وہ ابتدائی کوششیں جو چند افراد کے جذبے سے شروع ہوئیں آج ایک منظم قومی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
آگاہی اور عملی اقدامات کے میدان میں پناہ آج پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر اور فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
پناہ کی خدمات کا ایک اہم پہلو فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی ہے۔ ان کیمپس کے ذریعے دور دراز علاقوں اور کم وسائل رکھنے والے افراد کو مفت طبی معائنہ، مشاورت اور صحت سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔بچوں کے علاج معالجہ کی ایک لازوال کوشش ہے جو آج بھی سے ایف آئی سی کی معاونت سے جاری ہے۔
مختلف شہروں میں صحت آگاہی واکس اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ماہرینِ طب، طلبہ، اساتذہ اور سماجی کارکن بھرپور شرکت کرتے ہیں۔
پناہ کی کامیابیوں کے پیچھے اس کے تمام ٹیم ممبران،ڈونرز اور “کیانی کہانی ” کے خالق صدر جنرل مسعود الرحمن کیانی اور سیکرٹری جنرل ثناء اللہ گھمن کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے نہایت لگن، مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ تمباکو نوشی کے خلاف قومی مہم کو مضبوط بنایا۔ ان کی قیادت میں پناہ نے نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی صحت عامہ کے شعبے میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔
تمباکو کا استعمال دنیا بھر میں قابلِ تدارک اموات کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے پھیپھڑوں کا کینسر، منہ اور گلے کا کینسر، دل کے امراض، فالج، دائمی سانس کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر اور خون کی شریانوں کی متعدد بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ سگریٹ کا دھواں صرف استعمال کرنے والے کو ہی نہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد کو بھی متاثر کرتا ہے، جسے “سیکنڈ ہینڈ اسموک” کہا جاتا ہے۔ بچے، خواتین اور بزرگ اس کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت اب چھپی نہیں رہی کہ تمباکو نوشی انسانی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی ہے، سانس کی بیماریوں میں اضافہ کرتی ہے اور قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے۔ اسی لیے عالمی ادارۂ صحت مسلسل اس کے خلاف مؤثر پالیسیوں اور عوامی آگاہی پر زور دیتا ہے۔
سگریٹ نوشی کے خلاف عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کی نصف صدی پر محیط خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مستقل مزاجی، عزم اور عوامی خدمت کے جذبے سے بڑے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات پناہ کی کاوشوں کا ساتھ دیں اور تمباکو سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟









