امریکی سائنس دانوں نے گندم میں ایسا نایاب جین دریافت کیا ہے جو ایک پھول میں تین بیضہ دانیاں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے پیداوار تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔
امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ماہرین نے گندم میں ایک نیا جین دریافت کیا ہے جو پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ جین پودے کو ایک کے بجائے تین بیضہ دانیاں پیدا کرنے کے قابل بناتا ہے، جس سے ایک خوشے میں دانوں کی تعداد دو سے تین گنا تک بڑھنے کا امکان ہے۔ تحقیق سائنسی جریدے PNAS میں شائع ہوئی۔ ماہرین کے مطابق یہ جین WUS-D1 عام گندم میں غیر فعال ہوتا ہے لیکن ایک نایاب جنگلی قسم میں قدرتی طور پر فعال پایا گیا۔ فعال ہونے پر یہ مادہ اعضاء کی افزائش کو تیز کرتا ہے، نتیجتاً اضافی بیضہ دانیاں بنتی ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر وجے تیواری کا کہنا ہے کہ اس جینیاتی خصوصیت سے زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام تیار کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، جدید جینیاتی آلات کی مدد سے کم لاگت میں زیادہ پیداوار حاصل کرنے والی ہائبرڈ گندم ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ خصوصیت صرف گندم ہی نہیں بلکہ دیگر اناجی فصلوں میں بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔ اگر فی پودا دانوں کی معمولی تعداد میں بھی اضافہ ہو جائے تو عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی میں نمایاں بہتری اور غذائی بحران میں کمی ممکن ہے۔









