آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں بدعنوانی کے سنگین خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ریاستی اداروں میں پھیلی ہوئی وسیع بدعنوانی کے باعث ملک کو جی ڈی پی کا 6.5 فیصد تک نقصان پہنچتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہریوں کو معمولی سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے بھی اکثر اہلکاروں کو غیر قانونی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس رپورٹ میں پاکستان میں بدعنوانی کے مستقل چیلنجز کو اُجاگر کیا ہے، جو ریاستی اداروں میں موجود نظامی کمزوریوں کی وجہ سے بڑھتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے شفافیت، انصاف اور دیانت داری کو بہتر بنانے کے لیے 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستانی میڈیا میں سامنے آنے والے اقتباسات کے مطابق صرف دو برسوں میں 5.3 کھرب روپے کی بدعنوانی سے متعلق رقوم کی ریکوری، پاکستان کی معیشت پر موجود اصل بوجھ کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔ یہ ریکوری جنوری 2023 سے دسمبر 2024 تک کے عرصے پر مشتمل ہے۔ بدھ کے روز جاری کیے گئے سخت تجزیے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ بدعنوانی “ہر سطح پر مسلسل اور تباہ کن ہے۔”
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کی شرط کے تحت تقریباً تین ماہ کی تاخیر کے بعد یہ رپورٹ جاری کی، کیونکہ اسے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سے پہلے جاری کرنا لازمی تھا، جہاں 1.2 ارب ڈالر کی دو قسطوں کی منظوری دی جانی ہے۔
’پاکستان میں بدعنوانی کا درست اندازہ لگانا مشکل‘
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے حقیقی حجم کا قابلِ اعتماد اندازہ لگانا مشکل ہے، تاہم اس کے اثرات کا اندازہ بدعنوانی سے وصول کیے گئے اثاثوں کی ریکوری سے لگایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نیب کی جانب سے دو برسوں میں کی گئی ریکوریاں بدعنوانی کی گہرائی جانچنے کا ایک ذریعہ ہیں، لیکن یہ پاکستان پر پڑنے والے معاشی بوجھ کا صرف ایک حصہ ظاہر کرتی ہیں۔
آئی ایم ایف کے تجزیے کے مطابق اگر پاکستان آئندہ پانچ برس میں وسیع گورننس اصلاحات نافذ کرے تو ملک اپنی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے۔
ستر برس بعد بھی بدعنوانی پر قابو نہیں
رپورٹ میں بتایا گیا کہ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1947 میں بانیِ پاکستان محمد علی جناح نے بدعنوانی کو ایک ایسے زہر کے طور پر قرار دیا تھا جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ تاہم ستر برس سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بدعنوانی آج بھی پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ سرکاری فنڈز کو موڑ دیتی ہے، منڈیوں کو بگاڑتی ہے، منصفانہ مسابقت کو کمزور کرتی ہے، عوامی اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو محدود کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدعنوانی پاکستان کے نظامِ حکمرانی کی ایک مسلسل اور تباہ کن خصوصیت بن چکی ہے، اور اس کا الزام تمام سابقہ حکومتوں اور فوجی آمروں پر یکساں طور پر عائد ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف نے مثال کے طور پر تحریکِ انصاف کی 2019 کی چینی برآمد پالیسی کا حوالہ دیا۔
عوام بدعنوانی کے بوجھ تلے
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عام پاکستانی شہریوں کو معمول کی سرکاری خدمات کے حصول کے لیے بھی اہلکاروں کو غیر قانونی ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔ جبکہ اعلیٰ سطح پر معاشی و سیاسی اشرافیہ پالیسیوں اور طریقہ کار کو اس طرح تشکیل دیتی ہے کہ عوامی اختیارات کو ذاتی فوائد کے لیے استعمال کیا جا سکے، جس کا نتیجہ عوامی فلاح اور معاشی ترقی کی قیمت پر نکلتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عدلیہ سمیت اہم اداروں پر اثر و نفوذ اور بدعنوانی کے معاملات میں عدم احتساب کا ماحول اس رجحان کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ بدعنوانی سے حاصل شدہ سرمایہ بیرونِ ملک منتقل ہوجاتا ہے، جو پاکستان میں زیادہ نتیجہ خیز طریقے سے استعمال ہوسکتا تھا۔
بدعنوانی کی بنیادی وجوہات
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی کے خطرات کی بڑی وجوہات میں بجٹ سازی اور مالی معلومات کی ناقص رپورٹنگ شامل ہیں۔ اسی طرح سرکاری مالی و غیر مالی وسائل کے انتظام میں بے ضابطگیاں، خصوصاً ترقیاتی اخراجات، سرکاری خریداری (پبلک پروکیورمنٹ)، اور سرکاری اداروں کی نگرانی میں مسائل بدعنوانی کو بڑھاتے ہیں۔ حد سے زیادہ پیچیدہ اور غیر شفاف ٹیکس نظام بھی اس رجحان میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
مزید کہا گیا کہ پاکستان کا عدالتی نظام ساختی طور پر پیچیدہ ہے اور کارکردگی کے مسائل، فرسودہ قوانین اور عدالتی عملے کی دیانت داری سے متعلق چیلنجز کے باعث نہ تو معاہدوں کو مؤثر طور پر نافذ کر پاتا ہے اور نہ ہی املاک کے حقوق کا مناسب تحفظ کر سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ عدالتی افسران کی کارکردگی اور اخلاقی معیار کی نگرانی کے موجودہ طریقہ کار کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ مؤثر کارکردگی کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔









