فیصل آباد: محکمہ زراعت کی جانب سے کرم کش ادویات کے مؤثر استعمال کیلئے “کم خرچ، زیادہ فائدہ” مہم جاری ہے۔ جس کا مقصد کسانوں کو جدید سپرے مشینری اور درست تکنیک اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ کاشتکاروں کو بتایا جا رہا ہے کہ غلط نوزل، ناقص سپرے طریقہ اور غیر معیاری مشینری نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ فصل کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
ترجمان زراعت کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ غلط طریقہ کار کی وجہ سے کرم کش ادویات کا تقریباً 50 فیصد حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ جس سے کپاس سمیت دیگر فصلات کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور کیڑوں میں مزاحمت بھی بڑھتی ہے۔ یہ صورتحال ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کپاس کی پیداوار میں 50 فیصد خرچ صرف کرم کش ادویات پر آتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ سپرے ہینڈ سپریئر یا ٹریکٹر بوم سپریئر کے ذریعے درست رفتار اور درست نوزل کے ساتھ کیا جائے۔ سپرے سے پہلے کیلی بریشن (پیمانہ بندی) بھی لازمی ہے تاکہ مطلوبہ مقدار میں زہرپاشی ممکن ہو سکے۔
ترجمان نے کہا کہ زیادہ تر سپریئرز میں نوزل کا اخراج مقررہ حد سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ معیاری ایک سوراخ والی ہالوکون نوزل کا اخراج 500 تا 1000 ملی لٹر فی منٹ ہونا چاہیے، جبکہ کسان 4 سے 6 سوراخ والی نوزل استعمال کرتے ہیں جس سے اخراج 3 لٹر فی منٹ تک پہنچ جاتا ہے۔ بڑے قطرے پتوں پر نہیں ٹھہرتے اور زمین پر گر جاتے ہیں، جس سے دوائی ضائع ہوتی ہے اور اثر کم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سپرے لانس کو دائیں بائیں ہلانے سے سپرے یکساں نہیں رہتا، جس سے کیڑوں پر کنٹرول متاثر ہوتا ہے۔ سپرے ہمیشہ ایک وقت میں ایک قطار پر کیا جائے اور نوزل کو تقریباً 45 درجے کے زاویے پر رکھنا چاہیے۔
ترجمان نے مشورہ دیا کہ کرم کش ادویات کے لیے ہالوکون نوزل، اگاؤ سے پہلے جڑی بوٹیوں کے لیے فلڈ جیٹ نوزل، اور اگاؤ کے بعد جڑی بوٹیوں کے لیے فلیٹ فین نوزل استعمال کی جائے تاکہ بہترین نتائج حاصل ہوں۔









