ذہنی یکسوئی (Mindfulness) کے باقاعدہ عادی افراد میں اسمارٹ فون ایڈکشن کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تازہ عالمی تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو روزمرہ زندگی میں ہوش مندی برقرار رکھتے ہیں، فون استعمال سے نیند، کام اور تعلقات متاثر ہونے کی شکایت کم کرتے ہیں۔
یہ نتیجہ 11 ممالک کے 38 ہزار 800 افراد پر مشتمل 61 مطالعات کے مجموعی تجزیے سے سامنے آیا۔ ماہرین کے مطابق اسمارٹ فونز کا مسلسل قریب رہنا انسان کو عادتاً اسکرین کی طرف مائل کرتا ہے، جسے Problematic Smartphone Use کہا جاتا ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر سوزن ہولٹزمین کا کہنا ہے کہ بے قابو فون استعمال نیند، ذہنی دباؤ اور توجہ میں کمی جیسے مسائل سے جڑا ہے، جبکہ مائنڈفلنیس ان عادتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔
کیا یہ واقعی ضرورت ہے یا صرف عادت؟
دنیا بھر میں تقریباً 4.9 ارب افراد اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، اور محض چند منٹ کا بار بار چیک کرنا وقت کے بڑے ضیاع اور اضطراب کا سبب بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق Nomophobia — یعنی سگنل یا بیٹری ختم ہونے پر بے چینی — بھی اسی عادت کا حصہ ہے۔
تحقیق میں پایا گیا کہ ذہنی یکسوئی رکھنے والے افراد میں جذباتی استحکام، بہتر نیند اور فون استعمال پر خود اختیار زیادہ ہوتا ہے۔ توجہ اور سانس پر چند لمحوں کی یکسوئی موبائل کی لت کو توڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ فون کھولنے سے پہلے ایک لمحے رک کر خود سے سوال کریں: “کیا یہ واقعی ضرورت ہے یا صرف عادت؟” مطالعے میں صرف 30 منٹ کی مائنڈفلنیس ٹریننگ نے بھی نوجوانوں میں فون کے مسائل کم کیے۔









