اسلام آباد انسدادِ تجاوزات کارروائی

سی ڈی اے کا بڑا ایکشن، 320 کنال سرکاری زمین واگزار

اسلام آباد (سی این پی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اہم قدرتی ورثے نیشنل پارک کے تحفظ اور قدرتی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر سیدپور اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہیں۔

سی ڈی اے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مطابق کارروائی کے دوران جدید سیٹلائٹ جیو میپنگ اور ڈیجیٹل نقشہ جات کے ذریعے نیشنل پارک کی اصل حدود کی نشاندہی کی گئی، جس کے بعد غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ عمل میں لایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل پارک اسلام آباد کے ماحولیاتی توازن، قدرتی آبی ذخائر، جنگلی حیات کے تحفظ اور شہری آلودگی میں کمی کے لیے نہایت اہم ہے۔

گزشتہ برسوں میں اس حساس علاقے میں غیر قانونی آبادیوں اور تجاوزات کے باعث ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا، جس پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے مطابق سی ڈی اے نے ضلعی انتظامیہ اور اسلام آباد پولیس کے تعاون سے مرحلہ وار آپریشن شروع کیا تھا۔

چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت پر پہلے مرحلے میں سیٹلائٹ جیو میپنگ کے ذریعے سرکاری اراضی اور تجاوز شدہ رقبے کی واضح نشاندہی کی گئی، جس کے نتیجے میں 320 کنال قیمتی سرکاری زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرا لی گئی۔

واگزار اراضی پر شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی کا فیصلہ

سی ڈی اے حکام کے مطابق واگزار کروائی گئی قیمتی سرکاری اراضی کو رواں برس موسمِ بہار میں وسیع پیمانے پر شجرکاری اور ماحولیاتی بحالی کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ علاقے کا قدرتی حسن اور ماحولیاتی نظام دوبارہ بحال ہو سکے۔

واضح رہے کہ نیشنل پارک کے علاقے میں یہ کارروائی گزشتہ دس سال کے دوران پہلی بڑی انسدادِ تجاوزات مہم ہے، جو سرکاری اراضی کے تحفظ اور حکومت کی ماحول دوست پالیسیوں کے عملی نفاذ کی عکاس ہے۔ کارروائی کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی گئی۔

مزید برآں، غیر قانونی تجاوزات میں مبینہ سہولت کاری پر دو سی ڈی اے اہلکاروں اور ایک پولیس اہلکار کے خلاف باقاعدہ انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کر کے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

سی ڈی اے کے انوائرمنٹ ونگ کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ جیو میپنگ کے ذریعے کی گئی یہ کارروائیاں نیشنل پارک کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کی ایک مثالی مثال ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ بھی نیشنل پارک کی حدود میں موجود دیگر تجاوزات کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top