لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی کے دوران موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق گریڈ 18 سے کم تمام ملازمین کو دورانِ ڈیوٹی موبائل فون استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے، خاص طور پر وہ عملہ جو براہِ راست مریضوں کی دیکھ بھال اور سروس ڈیلیوری سے وابستہ ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ موبائل فون کے بے جا استعمال سے مریضوں کی نگہداشت متاثر ہونے کی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔
پابندی کا اطلاق ہسپتالوں کے وارڈز، آئی سی یو، این آئی سی یو اور آپریشن تھیٹرز پر ہوگا، جہاں موبائل فون کے استعمال کے ساتھ ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم خالصتاً انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے والے افسران کو دفتری ضرورت کے تحت محدود اجازت دی گئی ہے۔
ادویات چوری روکنے کیلئے نگرانی سخت
حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات چوری کی روک تھام کیلئے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فارمیسی اسٹورز اور ڈسپنسنگ کاؤنٹرز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے، جبکہ فارمیسی عملے کو باڈی کیمرے استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
باڈی کیمرے اسٹاک وصولی، ادویات کے اجرا اور ریکارڈ کی جانچ کے دوران لازمی پہننا ہوں گے۔ اس کے علاوہ فارمیسی ایریاز اور ہسپتال کے اندرونی و بیرونی داخلی راستوں پر تعینات سیکیورٹی گارڈز کیلئے بھی باڈی کیمرے پہننا لازم قرار دیا گیا ہے۔
تمام سی سی ٹی وی اور باڈی کیمرہ فوٹیج کم از کم 30 دن تک محفوظ رکھی جائے گی، جس کی نگرانی صرف مجاز انتظامی اور سیکیورٹی افسران پر مشتمل مرکزی کنٹرول روم کے ذریعے کی جائے گی۔
محکمہ صحت نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو نگرانی کے آلات کی فراہمی یقینی بنانے جبکہ چیف فارماسسٹ اور چیف سیکیورٹی افسران کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔









