ایران میں ملک گیر احتجاج

ایران میں احتجاج، درجنوں ہلاک، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ دوسرے دن بھی جاری

تہران: ایران میں بدترین معاشی حالات کے خلاف جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران ہلاکتوں اور گرفتاریوں میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ دوسرے روز بھی برقرار ہے۔

امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران بھر میں ہونے والے احتجاج میں کم از کم 65 افراد ہلاک جبکہ 2300 سے زائد مظاہرین گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ مظاہرے شدید مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بدحالی کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

حکام کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل کر دی گئی ہے۔ بلیک آؤٹ جمعرات کو تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں نافذ کیا گیا۔ تہران کے ایک شہری نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ انٹرنیٹ بندش حکومتی کوششوں کے برعکس احتجاج کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

امریکا کی دھمکی، ایران کا سخت ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا کارروائی کر سکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایرانی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو “اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینے” کا مشورہ دیا اور احتجاج کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق ایران میں جاری احتجاج حالیہ برسوں کی شدید ترین عوامی تحریکوں میں سے ایک ہے، جس نے حکومت کیلئے سنگین سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top