اسلام آباد/تہران : ایران میں جاری عوامی احتجاج کے دوران امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشات کے پیش نظر کئی ممالک نے حفاظتی اقدامات اور محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 28 دسمبر سے جاری احتجاجی تحریک کے بعد امریکہ کی انٹری نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے العدید پر تعینات بعض فوجی افسران کو احتیاطی اقدام کے طور پر شام تک اڈے چھوڑنے کی ہدایت دی گئی، تاہم یہ کسی ہنگامی انخلا یا خطرے کی نشاندہی نہیں۔ العدید ایئربیس مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ ہے جس میں تقریباً 10 ہزار فوجی تعینات ہیں۔
صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکی سفارتی ذرائع نے واضح کیا کہ یہ اقدامات صرف احتیاطی نوعیت کے ہیں اور کسی فوجی کارروائی کا فوری اعلان نہیں ہوا۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران میں محتاط رہنے اور ایمرجنسی میں سفارت خانے سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی۔
بھارت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ تہران میں بھارتی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث شہری احتجاجی علاقوں سے دور رہیں اور مقامی حالات پر نظر رکھیں۔
پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی اور یونیورسٹیوں کی عارضی چھٹی
ایران میں بدامنی کے باعث پاکستانی طلبہ کی وطن واپسی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ تقریباً 60 طلبہ جنوبی بلوچستان کے دور دراز گبد بارڈر کراسنگ کے ذریعے وطن واپس پہنچ گئے۔ پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے بتایا کہ ایرانی جامعات نے امتحانات ری شیڈول کر دیے ہیں اور غیر ملکی طلبا کو عارضی طور پر وطن جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
اسرائیل اور دیگر اتحادی ممالک نے امریکی صدر کو مشورہ دیا ہے کہ ایران پر ممکنہ بڑی فوجی کارروائی سے قبل ایرانی حکومت کو کمزور کیے بغیر کوئی ایکشن نہ لیا جائے، کیونکہ اس سے نقصان دہ نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔









