اسلام آباد: وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق آپریشن غَصب للحق بھرپور طریقے سے جاری ہے، جس میں اب تک افغان طالبان رجیم کے 527 اہلکار ہلاک اور 755 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر تازہ ترین اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ افغان طالبان کی 237 چوکیوں کو تباہ اور 38 چوکیوں پر قبضہ حاصل کیا جا چکا ہے، جبکہ دشمن کے متعدد جنگی اثاثے بھی خاک و خون میں تبدیل ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ آپریشن غَصب للحق پاکستان کی سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خطرے کے خاتمے کے لیے ایک طویل المدتی سٹریٹیجک مہم ہے، جس کا آغاز گزشتہ برس سے کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جامع کارروائیوں کے ذریعے سرحدی علاقوں میں امن و امان کو مضبوط بنانا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو ملک سے بے دخل کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ افغان سرحد پار سے دہشت گرد حملوں کے خلاف موثر جواب دیتے ہوئے افغانستان میں 62 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس میں دشمن کے 205 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زمینی فورسز نے بھی کامیاب آپریشنز انجام دے کر متعدد اہلکاروں کو بے حد نقصان پہنچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سکیورٹی فورسز کی جوائنٹ کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد گروہوں کے منصوبے ناکام بنائے جا چکے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے عوام پر زور دیا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ امن کی بحالی یقینی بنائی جا سکے۔
فضائی آپریشنز اور زمینی پیش رفت
وزیر اطلاعات کے مطابق دشمن کے متعدد اسٹریٹجک اڈوں اور گڑھوں کو فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کیا گیا ہے، جس سے طالبان رجیم کی جنگی صلاحیت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ زمینی فورسز نے اہم علاقوں پر کنٹرول قائم کر لیا ہے اور متعدد چوکیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ سرحدی استحکام مزید بہتر ہو سکے۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیکیورٹی آپریشنز میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم مطلوبہ امن و استحکام کے لیے سٹریٹیجک نگرانی اور باہمی کمانڈ کو مضبوط رکھنا ضروری ہے۔ افغان سرحدی علاقوں میں ممکنہ خطرات کے پیش نظر فورسز الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ حرکت کا بروقت جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔









