سرکاری ملکیتی اداروں کو 6 ماہ میں 342 ارب 80 کروڑ کا نقصان

سرکاری ملکیتی اداروں کو 6 ماہ میں 342 ارب 80 کروڑ روپے کا نقصان

اسلام آباد: جولائی سے دسمبر 2025 تک خسارے میں جانے والے سرکاری ملکیتی اداروں کا مجموعی خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ منافع بخش سرکاری اداروں نے 423 ارب 30 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس عرصے میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملکیتی اداروں کو 804 ارب روپے کی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ ان اداروں کی جانب سے حکومت کو 839 ارب روپے موصول ہوئے۔ یوں مجموعی طور پر سرکاری ملکیتی اداروں نے 35 ارب روپے کا خالص مالی منافع فراہم کیا۔

وزیر خزانہ کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کا اجلاس ہوا، جس میں سرکاری اداروں کی مالی اور انتظامی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اداروں کے مالی نتائج، حکومتی معاونت، آمدن اور اخراجات سمیت مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔

State Owned Enterprises کی کارکردگی کے جائزے کے دوران کمیٹی کو بتایا گیا کہ خسارے میں جانے والے اداروں کا مجموعی نقصان 342 ارب 80 کروڑ روپے رہا، جبکہ منافع بخش اداروں نے 423 ارب 30 کروڑ روپے کمائے۔ وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے سرکاری ملکیتی اداروں کو 804 ارب روپے کی معاونت دی، جبکہ اسی عرصے میں حکومت کو ان اداروں سے 839 ارب روپے موصول ہوئے۔

اعلامیے کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروں کی مجموعی مالی کارکردگی کو دیکھا جائے تو حکومت کو 35 ارب روپے کا خالص مالی منافع حاصل ہوا۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اداروں کی مالی پائیداری بہتر بنانے کے لیے اخراجات پر قابو پانے، مالی نظم و ضبط مضبوط کرنے اور عوامی وسائل پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق کمیٹی نے سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی کی ڈیجیٹل نگرانی کے نظام میں پیش رفت کو سراہا۔ ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے اداروں کی مالی اور غیر مالی کارکردگی کو باقاعدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جس سے نگرانی اور فیصلہ سازی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سرکاری ملکیتی اداروں کے خسارے کا مسئلہ نیا نہیں

پس منظر میں دیکھا جائے تو سرکاری ملکیتی اداروں کے خسارے کا مسئلہ نیا نہیں۔ وزارت خزانہ کی وفاقی سرکاری ملکیتی اداروں کی مالی سال 2024 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ان اداروں کے مجموعی خسارے 851 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق خسارے کے باوجود بعض اداروں کی آمدن میں اضافہ ہوا، تاہم مالی بوجھ اور قرضوں نے سرکاری اداروں کی کارکردگی پر دباؤ برقرار رکھا۔

دسمبر 2024 میں سامنے آنے والی وزارت خزانہ کی ششماہی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 کے پہلے چھ ماہ میں 15 سرکاری ملکیتی اداروں نے مجموعی خسارے کا 99.3 فیصد برداشت کیا تھا۔ ان اداروں کا مجموعی خسارہ 405 ارب 86 کروڑ روپے تھا، جبکہ اسی مدت میں سرکاری ملکیتی اداروں کے مجموعی خسارے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی تھی۔

بعد ازاں مالی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ میں وزارت خزانہ نے بتایا کہ خسارے میں جانے والے 25 وفاقی سرکاری اداروں کا مجموعی خسارہ 832 ارب 80 کروڑ روپے رہا، جبکہ منافع بخش اداروں نے مجموعی طور پر 709 ارب 90 کروڑ روپے منافع کمایا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں حکومت کی جانب سے سرکاری ملکیتی اداروں کو مجموعی مالی معاونت 2 ہزار 78 ارب 50 کروڑ روپے رہی، جس میں قرضے، سبسڈیز، گرانٹس اور ایکویٹی شامل تھی۔

اجلاس میں پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔ کمیٹی نے سرکاری اداروں میں مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے جب کہ مسلسل خسارے میں جانے والے اداروں میں اصلاحات تیز کرنے اور عوامی وسائل پر انحصار کم کرنے کی ہدایات کا اعادہ کیا۔

آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top