کوہاٹ پولیس لائنز میں خودکش دھماکا

کوہاٹ پولیس لائنز میں خودکش دھماکا ، 21 افراد شہید، 103 زخمی

کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کی مسجد کے قریب خودکش حملے اور اس کے بعد فائرنگ کے واقعے میں 21 افراد شہید اور 103 زخمی ہوگئے، زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل ہیں۔ پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے جانی نقصان کی تصدیق کردی ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، مقابلے میں 7 دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ پولیس لائنز میں خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔

پولیس حکام کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا۔ دھماکے کے بعد مسلح حملہ آور پولیس لائنز کے احاطے میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔

سینٹرل پولیس آفس کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز حملہ (kohat police lines suicide attack) کے بعد 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے، جن کے خلاف پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے بھرپور کارروائی کی۔ پولیس کے مطابق مقابلے میں خودکش بمبار اور اسنائپر سمیت 7 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ شروع ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس لائنز کی مسجد پر حملے کے بعد 7 مسلح دہشت گرد احاطے میں داخل ہوئے، جن کا پولیس اور سی ٹی ڈی نے بھرپور مقابلہ کیا۔

آئی جی کے مطابق پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کا فتنہ الخوارج سے مقابلہ ہوا، جس میں خودکش حملہ آور سمیت 7 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے 5 پولیس اہلکاروں اور 11 شہریوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی۔

دھماکے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال کوہاٹ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، جہاں 15 لاشوں اور 50 سے زائد زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث مزید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے کرک اور ہنگو سے اضافی ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار بھی جائے وقوعہ پر پہنچے۔ مجموعی طور پر 20 ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیوں اور ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد اہلکار سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں شریک رہے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پولیس لائنز اور ملحقہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا۔ حکام حملے میں ملوث عناصر اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات جمع کر رہے ہیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کوہاٹ پولیس لائنز میں خودکش دھماکا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کرلی۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ پولیس لائنز اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top