پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

پٹرول اور ڈیزل پھر مہنگے، قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر

اسلام آباد: پٹرول اور ڈیزل پھر مہنگے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، پٹرول 4 روپے 42 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 6 روپے 10 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا ہوگیا۔ تازہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 380 روپے 24 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران پٹرول ساڑھے 37 روپے جبکہ ڈیزل 39 روپے فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔

اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 15 ستمبر کو رات 12 بجے سے ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 42 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 10 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

تازہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 380 روپے 24 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

Petrol Price میں تازہ اضافے سے قبل پٹرول کی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر تھی، جس میں 4 روپے 42 پیسے اضافے کے بعد نئی قیمت 380 روپے 24 پیسے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے سے بڑھا کر 409 روپے 42 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز بھی پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 375 روپے 82 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔

ایک ہفتے کے دوران قیمتوں میں اضافے کا جائزہ

ایک ہفتے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا جائزہ لیا جائے تو 5 ستمبر کو پٹرول 342 روپے 79 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 370 روپے 41 پیسے فی لیٹر تھا۔

اس کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ ہوا۔ 8 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا، جس کے بعد پٹرول 355 روپے 69 پیسے اور ڈیزل 374 روپے 13 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔

9 ستمبر کو پٹرول مزید 5 روپے 58 پیسے جبکہ ڈیزل 4 روپے 18 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا۔ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 361 روپے 27 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 378 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔

10 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں مزید 3 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا، جس کے بعد پٹرول 364 روپے 35 پیسے اور ڈیزل 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔

11 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 2 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 28 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔ یوں پٹرول 370 روپے 80 پیسے جبکہ ڈیزل 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔

تازہ اضافے کے بعد 5 ستمبر کی قیمت کے مقابلے میں پٹرول 37 روپے 45 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 39 روپے ایک پیسہ فی لیٹر مہنگا ہوچکا ہے۔ اس طرح ایک ہفتے کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے نے نئی بلند سطح قائم کردی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر عوام میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے عوام کی مشکلات بڑھا رکھی ہیں، اب پٹرول کے نرخ بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور دیگر روزمرہ اخراجات بھی مزید بڑھ جائیں گے۔ عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ضروری ٹیکس ختم کرکے عوام کو فوری اور حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔

آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top