اسلام آباد: پاکستان میں غذائی اشیا کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کا فوڈ امپورٹ بل 7.09 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی درآمدات اور برآمدات میں کمی نے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ رجحان خوراک کے شعبے میں بڑھتے ہوئے عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان فوڈ امپورٹ بل 7.09 ارب ڈالر کے دوران درآمدات میں 15.22 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 6.15 ارب ڈالر تھا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ چینی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مقامی مارکیٹ میں قلت کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی۔
پاکستان فوڈ امپورٹ بل 7.09 ارب ڈالر (Pakistan food import bill $7.09bn) کے مطابق اسی عرصے میں خام غذائی اشیا کی برآمدات میں 33.90 فیصد کمی ہوئی اور یہ 5.75 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3.80 ارب ڈالر رہ گئیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چاول کی برآمدات میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق باسمتی اور غیر باسمتی چاول دونوں کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی، جبکہ مارچ کے مہینے میں بھی اس رجحان میں تیزی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی درآمدات اور برآمدات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ملکی پیداوار میں کمی اور سپلائی مسائل کو ظاہر کرتا ہے۔
چینی اور خوردنی تیل کی درآمدات میں اضافہ
پام آئل کی درآمدات 17.49 فیصد اضافے کے ساتھ 3.02 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مقدار کے لحاظ سے بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح چائے، دودھ اور بچوں کی خوراک کی درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان فوڈ امپورٹ بل 7.09 ارب ڈالر کے تناظر میں دیگر غذائی اشیا کی درآمدات میں بھی 37.77 فیصد اضافہ ہوا، جو 2.24 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک خوراک کے لیے بیرونی منڈیوں پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔
برآمدات میں نمایاں کمی
دوسری جانب غذائی برآمدات میں مجموعی طور پر کمی دیکھی گئی ہے، جہاں باسمتی چاول کی برآمدات میں 11.82 فیصد جبکہ دیگر اقسام میں 47.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سبزیوں اور تمباکو کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی۔
تاہم مچھلی، پھل اور گوشت کی برآمدات میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو اس شعبے میں محدود بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔








