
وقار فانی مغل
ہلال احمر پاکستان اور جرمن ریڈ کراس کے اشتراک سے قومی موسمیاتی صحافت تربیتی ورکشاپ
موسم بدل رہے ہیں، درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے، بارشوں کا انداز تبدیل ہو رہا ہے، کہیں سیلاب بستیاں اجاڑ رہے ہیں تو کہیں خشک سالی روزگار کے ذرائع کو متاثر کر رہی ہے۔ گلیشیئر پگھلنے سے لے کر ہیٹ ویوز تک، موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ پاکستان کے عام شہری، کسان، مزدور، خواتین، بچے اور دور دراز علاقوں میں آباد کمیونٹیز اسے روزمرہ زندگی میں محسوس کر رہی ہیں۔ ایسے میں موسمیاتی تبدیلی کی کہانی صرف درجۂ حرارت، بارش اور اعدادوشمار کی کہانی نہیں، بلکہ انسان، اس کے گھر، روزگار، صحت، خوراک اور مستقبل کی کہانی ہے۔
اسی احساس اور ذمہ داری کے تحت ہلال احمر پاکستان کے شعبہ کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن اور میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام، جرمن ریڈ کراس کے تعاون سے دو روزہ نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ اسلام آباد میں کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔
اس قومی سطح کی تربیتی سرگرمی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پاکستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، فیلڈ رپورٹرز اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا سمیت موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں سے تعلق رکھنے والے 30 سے زائد صحافی اس تربیتی عمل کا حصہ بنے۔ یوں یہ ورکشاپ صرف ایک تربیتی سرگرمی نہیں رہی بلکہ پاکستان کے مختلف جغرافیائی اور موسمیاتی خطوں سے آنے والی صحافتی آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ذریعہ بھی بنی۔
ورکشاپ کا بنیادی مقصد صحافیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے سائنسی، سماجی اور انسانی پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھنے اور انہیں ذمہ دارانہ، مؤثر اور عوامی مفاد پر مبنی صحافتی کہانیوں میں ڈھالنے کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرنا تھا۔
تربیتی ورکشاپ کا آغاز ہلال احمر پاکستان کے کلائمیٹ چینج ایڈاپٹیشن پروگرام سے وابستہ سجاد علی کندھیر اور مرتضیٰ تالپور کی جانب سے تربیت کے مقاصد اور اہمیت پر تفصیلی بریفنگ سے ہوا۔ جرمن ریڈ کراس کے محترم آصف امان اور پروگرام کوآرڈینیٹر محترم غلام رسول فاروقی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مؤثر، متوازن اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
ہلال احمر پاکستان نیشنل ہیڈکوارٹرز کے ہیڈ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن جناب شیر زمان نے ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ موومنٹ کی تاریخ، ہلال احمر پاکستان کے قیام، مینڈیٹ اور دائرۂ کار کے حوالے سے تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ اس سیشن کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشن محترم ریحان علی نے سہولت فراہم کی۔
ورکشاپ کے دوران جیو سے وابستہ معروف کلائمیٹ اینڈ انوائرنمنٹل جرنلسٹ محترمہ انیبہ وقار نے موسمیاتی سائنس، موسمیاتی رپورٹنگ کے مختلف طریقۂ کار، اسٹوری ڈویلپمنٹ، کلائمیٹ پالیسی اور عملی نیوز اسٹوری کی تیاری کے حوالے سے خصوصی سیشنز منعقد کیے۔ صحافیوں کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ پیچیدہ موسمیاتی معلومات کو عام قاری اور ناظر کے لیے قابلِ فہم، مؤثر اور انسانی زاویے سے کس طرح پیش کیا جاسکتا ہے۔
تربیتی ورکشاپ کے دوسرے روز براڈکاسٹ جرنلسٹ اور موبائل جرنلزم ٹرینر،وی لاگر محترم عبدالرزاق کھٹی نے موبائل جرنلزم کے موضوع پر خصوصی سیشن لیا جس میں جدید ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے موسمیاتی کہانیوں کی مؤثر کوریج، فیلڈ رپورٹنگ اور مواد کی تیاری کے مختلف پہلوؤں پر عملی رہنمائی فراہم کی گئی۔
ہلال احمر پاکستان کے عثمان بنگش اور زکاء رسول نے فوٹو گرافی اور وڈیو گرافی کے فرائض بخوبی نبھائے۔
ورکشاپ کے دیگر سیشنز میں کلائمیٹ ڈیٹا جرنلزم، روزمرہ کی خبروں میں موسمیاتی پہلوؤں کی نشاندہی، مؤثر انسانی مرکز کہانیوں کی تشکیل، قابلِ اعتماد ذرائع سے رابطے اور موسمیاتی پالیسی کی صحافتی تفہیم جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔
شرکاء نے محض لیکچرز تک محدود رہنے کے بجائے عملی مشقوں میں حصہ لیا، موسمیاتی موضوعات پر اسٹوریز تیار کیں، اپنی رپورٹس پیش کیں اور ماہرین سے ادارتی رہنمائی اور فیڈ بیک حاصل کیا۔ اس عملی انداز نے صحافیوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کو محض ایک سائنسی موضوع کے بجائے انسانی زندگی سے جڑے ہوئے مسئلے کے طور پر دیکھ سکیں۔نوشکی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے محمد ابرہیم بلوچ کی ہجرت پر بنائی گئی ڈاکیومنٹری کو زبردست تالیوں کی گونج میں سراہا گیا۔جب عبدالرزاق کھٹی صاحب نے یہ کہا کہ آپ ایوارڈ کے مستحق ہیں تو پھر
انہیں راقم نے “حامد میر کی کہانی” نامی کتاب پیش کی جس کا سب شرکاء نے خیر مقدم کیا
دو روزہ ورکشاپ کے دوران ایک نیٹ ورک قائم ہوا جو آنے والے دنوں میں مشترکہ طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق خبروں کو اہمیت دے گا اور ہلال احمر پاکستان کے ساتھ بطور رضا کار انسانیت کی خدمت اور آگہی کے پھیلاؤ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا ۔اختتامی روز چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان محترمہ فرزانہ نائیک کی جانب سے پیغام میں کہا گیا کہ موسمیاتی اقدامات کا آغاز ایسے حل سے ہونا چاہیے جو مقامی آبادیوں کی حقیقی ضروریات اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ وہ مقامی سطح پر کیے جانے والے عملی اقدامات اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے والی کمیونٹیز کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلال احمر پاکستان اور جرمن ریڈ کراس کی جانب سے صحافیوں کو موسمیاتی مسائل کی مؤثر رپورٹنگ کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرنا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔
محترمہ فرزانہ نائیک کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے منصوبوں اور پالیسیوں کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی آبادیوں کے تجربات، ضروریات اور مشکلات کو سمجھا جائے۔ صحافت اس عمل میں ایک پل کا کردار ادا کرسکتی ہے، جو پالیسی سازوں، ماہرین، امدادی اداروں اور متاثرہ کمیونٹیز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنائے۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے وسیع تجربہ کے حامل سیکرٹری جنرل ہلال احمر پاکستان محترم محمد عبیداللہ خان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں کمیونٹیز، روزگار کے ذرائع اور انسانی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث درست، ذمہ دارانہ اور مؤثر موسمیاتی رپورٹنگ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ اور انہیں موسمیاتی مسائل کو سمجھنے، ان کے مقامی اثرات کا جائزہ لینے اور انہیں واضح، متعلقہ اور مؤثر کہانیوں میں ڈھالنے کے قابل بنانا کمیونٹیز، پالیسی سازوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مؤثر رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صحافت زمینی سطح پر درکار عملی اقدامات اور ممکنہ حل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں صحافت کا یہ کردار مزید اہم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف جہاں سیلاب، ہیٹ ویو، خشک سالی، گلیشیئر پگھلنے اور غیر معمولی بارشوں جیسے واقعات انسانی زندگی کو متاثر کررہے ہیں، وہیں دوسری جانب ان کے اثرات ملک کے مختلف خطوں میں مختلف نوعیت کے ہیں۔ گلگت بلتستان کا مسئلہ سندھ سے مختلف ہے، خیبر پختونخوا کے موسمیاتی چیلنجز پنجاب سے مختلف ہیں، جبکہ آزاد کشمیر اور بلوچستان کی اپنی مخصوص جغرافیائی اور ماحولیاتی حقیقتیں ہیں۔اسی لیے مقامی صحافت اور مقامی آوازوں کو موسمیاتی رپورٹنگ میں مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب ایک صحافی کسی متاثرہ خاندان کی کہانی بیان کرتا ہے، کسی کسان کے بدلتے ہوئے زرعی حالات کو سامنے لاتا ہے، کسی پہاڑی علاقے میں گلیشیئر کے پگھلنے کے اثرات رپورٹ کرتا ہے یا کسی شہری آبادی میں شدید گرمی کے انسانی اثرات اجاگر کرتا ہے تو موسمیاتی تبدیلی کے خشک اعدادوشمار ایک زندہ انسانی کہانی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
یہی وہ صحافتی زاویہ ہے جو معاشرے کو صرف خطرے سے آگاہ نہیں کرتا بلکہ حل، مزاحمت، موافقت اور امید کی کہانیاں بھی سامنے لاتا ہے۔
نیشنل کلائمیٹ جرنلزم ٹریننگ ورکشاپ اس اعتبار سے ایک اہم قدم ہے کہ اس نے پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ایک مشترکہ تربیتی پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو سائنسی، صحافتی اور انسانی زاویوں سے سمجھا۔
ہمیں لالا عارف عرفی اور یوسف عابد سے برسوں بعد ملاقات بھلی لگی۔امیر الدین مغل کو قریب سے دیکھا سوات کے وقار اور رانا فرحان کی شرکت سے خوشی دوبالا ہوئی۔دادو کا نوجوان صحافی حنیف رودنانی کتاب کے تحفے کا حقدار ٹھہرا۔عدنان قریشی،وردہ صاحبہ اور عبدالحکیم مومند نے پاکستان ریڈ کریسنٹ کی برانچ نمائندگی کی۔منظر شگری کی سربراہی میں گلگت بلتستان کا گروپ نمایاں رہا۔پھولوں کا یہ گلدستہ خوش رنگ بھی تھا اور خوش نما بھی۔سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی نمائندگی کا حق مریم شاہ صاحبہ نے کمال انداز سے ادا کیا۔
اس طرح کی ورکشاپس نہ صرف صحافتی معیار بہتر بناتی ہیں بلکہ موسمیاتی بحران کے بارے میں عوامی شعور اجاگر کرنے اور مقامی سطح پر عملی اقدامات کی اہمیت اجاگر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔اس پورے گروپ کو مرتضیٰ تالپور صاحب اور شیر زمان صاحب کی نگرانی میں ہلال احمر پاکستان نیشنل ہیڈ کوارٹرز کا بھی دورہ کرایا گیا ،مختلف شعبہ جات سے آگاہی دی گئی۔
جرمن ریڈ کراس کی جانب سے ریفریشمنٹ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔انیبہ وقار صاحبہ اور عبدالرزاق کھٹی صاحب کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی گئیں۔
آج جب موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑھتا ہوا انسانی اور ترقیاتی چیلنج بن چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر خبر میں موسمیاتی زاویہ تلاش کیا جائے۔ہر متاثرہ کمیونٹی کی آواز سنی جائے اور ہر ممکنہ حل کو سامنے لایا جائے۔
کیونکہ موسمیاتی صحافت محض موسم کی خبر نہیں!
یہ انسان کے آج اس کے کل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی خبر ہے۔
آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟









