اسلام آباد (رپورٹ ، ساجد حسین)میر رضا علی کی موت کا معاملہ محض ایک قتل کی تفتیش نہیں رہا، بلکہ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہو گیا ہے کہ اس کیس میں ابتدائی تحقیقات کس سمت میں گئیں اور بعد میں سامنے آنے والے طبی، فرانزک اور دیگر شواہد نے ان نتائج پر کیا سوالات اٹھائے۔ ایک نوجوان کی پراسرار موت سے شروع ہونے والی یہ تحقیقات اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جہاں پوسٹ مارٹم رپورٹس، فرانزک نتائج، ڈیجیٹل ریکارڈ اور جائے وقوعہ سے متعلق شواہد ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے جا رہے ہیں۔
28 جولائی کو میر رضا کے لاپتا ہونے سے لے کر اگلے روز لاش ملنے، ابتدائی طبی معائنے، بعد کی تحقیقات اور نئی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل تک اس کیس میں کئی ایسے موڑ آئے جنہوں نے سوالات کی تعداد کم کرنے کے بجائے بڑھا دی۔ خاندان کے اپنے سوالات ہیں، پولیس کا اپنا مؤقف ہے اور طبی و فرانزک شواہد کی اپنی کہانی، لیکن ان سب کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھنے پر اصل تصویر ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی۔
اس تحقیق میں ہم نے دستیاب پولیس ریکارڈ، طبی و فرانزک رپورٹس، تفتیشی معلومات، عدالتی کارروائی، اہل خانہ اور وکیل کے مؤقف سمیت ان شواہد کا جائزہ لیا ہے جو میر رضا کی موت کے گرد موجود سوالات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مقصد کسی فرد کو قصوروار قرار دینا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ اب تک کیا ثابت ہوا، کون سی باتیں ابھی محض دعوے یا سوالات ہیں اور تفتیش کن اہم کڑیوں کے جواب تلاش کر رہی ہے۔
واقعے کا بنیادی پس منظر
میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتہ ہوئے۔ دستیاب پولیس ریکارڈ کے مطابق وہ رات گئے اپنے گھر سے روانہ ہوئے اور صبح تقریباً 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے سفر کیا۔
آن لائن ٹیکسی ڈرائیور احسان اللہ کے مطابق میر رضا نے 3 بج کر 57 منٹ پر رائیڈ بک کی، 4 بج کر 7 منٹ پر ڈرائیور سے رابطہ ہوا اور 4 بج کر 9 منٹ پر سفر شروع ہوا۔ ڈرائیور کے مطابق میر رضا نے راستے کے دوران اسے مختلف مقامات سے گزرنے کی ہدایات دیں اور گاڑی تیز چلانے کو بھی کہا۔29 جولائی کو میر رضا کی لاش گلستان جوہر میں جھاڑیوں کے قریب سے ملی۔ ابتدائی طور پر مقدمہ اغوا کی دفعات کے تحت درج کیا گیا، جبکہ بعد کی تحقیقات میں مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئیں۔
میر رضا کے والد اور اہل خانہ کا موقف
میر رضا کے والد میر حسین نے ابتدا ہی سے اپنے بیٹے کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے خودکشی کے امکان کو مسترد کیا۔ان کے مطابق تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں خاندان کو تفتیش کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے مالی معاملات اور قرض کو تحقیقات کا اہم پہلو بنانے پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔میر حسین کا کہنا تھا کہ اگر قرض ہونا جرم ہے تو ملک میں بہت سے لوگ قرض میں ہیں، اس لیے صرف مالی معاملات کی بنیاد پر موت کی وجہ متعین نہیں کی جا سکتی۔
والد کے اہم سوالات
میر رضا کے والد کی جانب سے مختلف مواقع پر درج ذیل سوالات اٹھائے گئے:
میر رضا کے ساتھ لاپتا ہونے کے بعد کیا ہوا؟
وہ تقریباً 12 گھنٹے کہاں رہے؟
گیسٹ ہاؤس سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کی مکمل تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟
گیسٹ ہاؤس کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج خاندان کو کیوں فراہم نہیں کی گئی؟
ابتدائی پوسٹ مارٹم کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کا جواب کیا ہے؟
فرانزک نمونے لیبارٹری پہنچنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟
جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ بروقت کیوں نہیں ہوئی؟
موبائل فون اور سماٹ واچ کا مکمل فرانزک تجزیہ کب اور کہاں ہوگا؟
اگر کسی شخص کو تفتیش میں شامل کیا گیا تو اس کا قانونی اور تحقیقی درجہ کیا ہے؟
میر حسین نے یہ بھی کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ اگر کسی شخص کا جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے زندہ گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔اہل خانہ نے بعد کے مرحلے میں نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ پولیس کو تحقیقات مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر کا موقف
میر رضا کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے مختلف پریس کانفرنسوں اور میڈیا گفتگو میں تحقیقات کے طریقہ کار پر متعدد سوالات اٹھائے۔ان کا بنیادی موقف یہ رہا کہ خاندان کسی مخصوص شخص کو قاتل قرار نہیں دے رہا بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام شواہد کو سائنسی اور غیر جانب دارانہ انداز میں دیکھا جائے۔جبران ناصر نے واضح کیا کہ میر رضا کے دوستوں، کاروباری ساتھیوں یا دیگر افراد کے نام پولیس کو معلومات حاصل کرنے کے لیے دیے گئے ہیں اور کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر ملزم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے اہم نکات
وکیل کے مطابق تحقیقات میں درج ذیل امور خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں:
جائے وقوعہ پر پولیس اور کرائم سین ٹیم کی بروقت موجودگی۔
جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کا تحفظ۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کا مکمل حصول اور تجزیہ۔
جیو فینسنگ کا بروقت کیا جانا۔
موبائل فون اور سماٹ واچ کا فرانزک تجزیہ۔
پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والے تضادات اور سوالات۔
فرانزک نمونے لیبارٹری پہنچانے میں مبینہ تاخیر۔
گولی کے خول کا فرانزک تجزیہ۔
میر رضا کے آخری رابطوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ۔
پولیس کا موقف
پولیس کے مطابق کیس کی تحقیقات مختلف مراحل سے گزر چکی ہیں اور اب اسے متعدد زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ابتدائی مرحلے میں پولیس نے اغوا کے مقدمے کے تحت تحقیقات شروع کیں۔ بعد میں میڈیکل اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سے متعلق دفعات شامل کی گئیں۔پولیس کے مطابق میر رضا کے رابطوں، موبائل فون ریکارڈ، مالی معاملات، جائے وقوعہ، سی سی ٹی وی، جیو فینسنگ، فرانزک شواہد اور دیگر متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔نئے تفتیشی افسر کے مطابق 35 افراد سے تحقیقات جاری ہیں اور میر رضا سے رابطے میں رہنے والے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال کسی شخص کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا۔
پولیس کے سامنے اہم تحقیقی سوالات
تحقیقات میں خاص طور پر یہ نکات شامل ہیں:
میر رضا کے آخری فون کالز اور پیغامات۔
28 جولائی کی رات ان کی نقل و حرکت۔
آن لائن ٹیکسی کا سفر۔
موبائل فون کا ڈیٹا۔
سماٹ واچ کا ڈیٹا۔
جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ۔
سی سی ٹی وی فوٹیج۔
کرائم سین سے حاصل ہونے والے شواہد۔
گولی کے خول کا فرانزک۔
مالی معاملات اور قرضوں کا ریکارڈ۔
ممکنہ طور پر متعلقہ افراد کے بیانات۔
طبی اور فرانزک رپورٹس۔
آئی جی سندھ اور سندھ پولیس کا موقف
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے مختلف مواقع پر کہا کہ پولیس نے کیس پر کام کیا ہے اور تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ایک مرحلے پر آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس نے کیس ٹریس کر لیا ہے اور جلد پریس کانفرنس کے ذریعے تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔تاہم دوسری جانب انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ میڈیکو لیگل آفس کی جانب سے کیس میں واضح کوتاہیاں ہوئی ہیں اور ذمہ داری ثابت ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔
نئی تحقیقاتی ٹیم
کیس میں متعدد تبدیلیوں کے بعد نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن سندھ عامر فاروقی کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ کمیٹی میں مختلف پولیس افسران شامل کیے گئے اور بعد میں اس کے ارکان کی تعداد مزید بڑھائی گئی۔نئی ٹیم کو ہدایت دی گئی کہ تمام پرانے شواہد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، نئے شواہد تلاش کیے جائیں، فزیکل، ٹیکنیکل، واقعاتی اور فرانزک شواہد کا تجزیہ کیا جائے، تمام متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں، ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک کیا جائے، تحقیقات کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے اور حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
میڈیکل بورڈ اور پوسٹ مارٹم کا معاملہ
کیس کا ایک اہم پہلو ابتدائی اور بعد کے طبی معائنے کے درمیان سامنے آنے والے سوالات ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے حوالے سے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے متعدد خامیوں کی نشاندہی کی۔ بعد میں عدالت کی نگرانی میں قبر کشائی کرکے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں بھی تبدیلی ہوئی۔ پہلے پانچ رکنی بورڈ بنایا گیا، تاہم اہل خانہ کے تحفظات کے بعد سابقہ آٹھ رکنی بورڈ بحال کردیا گیا۔ دوسرے طبی معائنے کے دوران مختلف جسمانی نمونے حاصل کیے گئے تاکہ موت کی وجہ اور دیگر طبی سوالات کا سائنسی جائزہ لیا جا سکے۔
کیمیکل اور فرانزک شواہد
دستیاب معلومات کے مطابق میر رضا کی شرٹ کی کیمیائی جانچ مکمل کی گئی۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق شرٹ پر تیزاب سے متعلق شواہد ملے جبکہ خون کے نمونے میں بے ہوشی کی دوا کے اجزا پائے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔شرٹ پر گن شاٹ ریزیڈیو (GSR) سے متعلق عناصر کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی۔ مزید اطلاعات کے مطابق جسم اور کپڑوں سے حاصل کیے گئے مختلف نمونے فرانزک جانچ کے لیے بھیجے گئے۔
ڈی این اے رپورٹ
قبر کشائی کے بعد حاصل کیے گئے نمونوں میں سے بعض کو ڈی این اے جانچ کے لیے جامعہ کراچی کی لیبارٹری بھیجا گیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق میر رضا کے ڈی این اے کا والدین کے نمونوں سے میچ ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔
گولی اور بیلسٹک شواہد
جائے وقوعہ سے گولی کا خول ملنے کی اطلاع سامنے آئی۔ تحقیقات میں یہ مسئلہ بھی سامنے آیا کہ بیلسٹک فرانزک کے لیے استعمال ہونے والا IBIS نظام غیر فعال تھا۔فرانزک حکام کے مطابق اس کے باوجود مائیکرو اسکوپ کے ذریعے دستی تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور اگر متعلقہ پستول دستیاب ہو تو خول اور اسلحے کی میچنگ ممکن ہے۔
موبائل فون، سماٹ واچ اور ڈیجیٹل شواہد
میر رضا کا موبائل فون اور سماٹ واچ کیس کی تحقیقات میں اہم ڈیجیٹل شواہد کے طور پر زیر جائزہ ہیں۔تفتیشی ٹیم نے این سی سی آئی اے کو خطوط لکھ کر موبائل اور ڈیجیٹل ڈیٹا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، دیگر ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور سماٹ واچ کے ڈیٹا سے متعلق معلومات اور فرانزک معاونت طلب کی۔بعد میں موبائل فون اور سماٹ واچ کو مزید فرانزک تجزیے کے لیے لاہور کی فرانزک لیب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آخری فون کالز اور پیغامات
تفتیشی ذرائع کے مطابق 28 جولائی کو میر رضا نے دو افراد سے فون پر بات کی۔ رات 2بج کر13 منٹ اور 2بج کر16 منٹ پر علی نامی شخص سے بات ہوئی۔ آخری کال دوست عبداللہ نے وصول کی۔ میر رضا اور عبداللہ کے درمیان تین منٹ سے زائد گفتگو ہوئی۔صبح تقریباً 4بج کر20 سے 4 بج کر22 منٹ کے درمیان آخری آٹھ پیغامات موصول ہوئے جن کا جواب نہیں دیا گیا۔ پولیس نے ان رابطوں سے متعلق افراد سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا ہے۔
گیسٹ ہاؤس سے متعلق معاملہ
لاش ملنے کے مقام کے قریب موجود ایک گیسٹ ہاؤس کو پولیس نے سیل کیا اور وہاں کام کرنے والے متعدد افراد کو شامل تفتیش کیا۔گیسٹ ہاؤس سے متعلق سی سی ٹی وی اور دیگر معلومات بھی تحقیقات کا حصہ ہیں۔ میر رضا کے والد نے گیسٹ ہاؤس کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہ آنے پر سوال اٹھایا۔
میر رضا کے دوستوں اور کاروباری ساتھیوں سے پوچھ گچھ
پولیس نے میر رضا کے دوستوں، کاروباری ساتھیوں اور دیگر رابطہ رکھنے والے افراد کو شامل تفتیش کیا۔ ایک کاروباری ساتھی محمد احمد کا بیان بطور گواہ ریکارڈ کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی، جبکہ عدالت نے انہیں تحقیقات میں تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
مالی معاملات اور قرض
تحقیقات میں میر رضا کے مالی معاملات کو بھی شامل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 10 افراد کے ساتھ پانچ کروڑ روپے سے زائد کے قرض یا مالی لین دین کی تفصیلات مرتب کی گئی ہیں۔ ان افراد سے قرض دینے کی وجوہات، مالی لین دین اور میر رضا کے ساتھ تعلقات سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
جائے وقوعہ اور کرائم سین سے متعلق سوالات
تحقیقات میں جائے وقوعہ پر پولیس اور کرائم سین ٹیم کی بروقت موجودگی بھی اہم سوال بن چکی ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق لاش ملنے کے بعد کرائم سین یونٹ بروقت موقع پر نہیں پہنچ سکا اور اگلے روز جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا۔ اہل خانہ اور وکیل نے اس تاخیر پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعد میں نئی تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ کا متعدد بار دورہ کیا، علاقے کی جیو فینسنگ کرائی اور اردگرد موجود افراد سے بھی معلومات حاصل کیں۔
رات کے وقت دوبارہ جائے وقوعہ کا معائنہ
نئی تحقیقاتی ٹیم نے میر رضا کی گمشدگی کے متوقع وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے رات تقریباً 3 سے 4 بجے کے درمیان جائے وقوعہ کا دوبارہ معائنہ کیا۔اطلاعات کے مطابق اسی وقت کے دوران فائرنگ کرکے یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ گولی کی آواز قریبی آبادیوں تک کس حد تک پہنچتی ہے۔ قریب موجود افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔تحقیقاتی طور پر یہ سوال بھی زیر جائزہ ہے کہ آیا میر رضا کو اسی مقام پر گولی ماری گئی جہاں سے لاش ملی یا انہیں کسی اور مقام سے وہاں منتقل کیا گیا۔
سی سی ٹی وی میں سامنے آنے والی سرگرمیاں
دستیاب معلومات کے مطابق جائے وقوعہ کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹس میں ایک موٹر سائیکل اور بعض اوقات ایک شخص کی مشکوک نقل و حرکت کا ذکر سامنے آیا ہے۔
**سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے الزامات **
کیس کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف افراد اور شخصیات کے بارے میں دعوے اور الزامات گردش کرتے رہے۔ ان میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور ان کے بیٹے سے متعلق دعوے بھی شامل تھے۔شرجیل میمن نے ان الزامات کو مسترد کیا اور مبینہ ہتک آمیز اور من گھڑت ڈیجیٹل مواد کے خلاف این سی سی آئی اے سے رجوع کیا۔ این سی سی آئی اے نے اس شکایت کے سلسلے میں بعض افراد کو طلب کیا۔
**جوڈیشل کمیشن کا معاملہ **
سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز سامنے آئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق کمیشن کا مقصد پولیس کی جگہ قتل کی تفتیش کرنا نہیں بلکہ پولیس اور میڈیکو لیگل نظام میں ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لینا تھا۔بعد میں میر رضا کے اہل خانہ نے نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فی الحال جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
**عدالت کا موقف **
عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران تفتیش کی رفتار پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقتول کا خاندان اور شہری تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں اور پولیس کو تحقیقات مکمل کرکے حقائق سامنے لانے چاہئیں۔ نئے تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرکے مقررہ تاریخ پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
**19 روز بعد سندھ پولیس کا باضابطہ موقف **
سندھ پولیس نے کیس کے حوالے سے 19 روز بعد باضابطہ طور پر پولیس بیان اور طبی رپورٹس میڈیا کے ساتھ شیئر کیں۔ پولیس کے مطابق اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم طبی، ڈیجیٹل، فرانزک اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے جبکہ مختلف رپورٹس میں سامنے آنے والے نکات کی مزید وضاحت اور تصدیق بھی کی جا رہی ہے۔ترجمان کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کو اب تک دو پوسٹ مارٹم رپورٹس، ایک حتمی رپورٹ اور کیمیائی تجزیے کی تین رپورٹس موصول ہو چکی ہیں۔ کیمیائی تجزیے کی تازہ ترین رپورٹ 17 اگست کو موصول ہوئی۔ تمام رپورٹس کا باہمی تقابلی اور تنقیدی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے دوران بعض ایسے نکات بھی سامنے آئے ہیں جن پر مزید وضاحت اور باہمی مطابقت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اسی لیے متعلقہ حکام اور اداروں سے مزید معلومات اور تصدیق حاصل کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق اہل خانہ، دوستوں اور دیگر متعلقہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے رابطہ کیا گیا ہے جبکہ موبائل فون کو اَن لاک کرنے میں معاونت کے لیے ایپل کے حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
میر رضا کے اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے سندھ پولیس کے باضابطہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طبی اور کیمیائی رپورٹس میں ابہام کی نشاندہی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق رپورٹس میں مسلسل ’الجھن‘ اور ’عدم وضاحت‘ کا حوالہ دیا جانا باعث تشویش ہے اور شواہد کی بنیاد پر شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
**کراچی میں احتجاج جاری **
میر رضا کے لیے انصاف کے مطالبے پر کراچی میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔سینیٹری اینڈ ٹائلز مارکیٹ کے تاجروں نے گل بہار ٹریڈرز الائنس کے پلیٹ فارم سے نوجوان کاروباری شخصیت کے مبینہ قتل کے خلاف گل بہار کی مرکزی سڑک پر احتجاج کیا۔ میر رضا کے والد میر حسین علی بھی احتجاج میں شریک ہوئے، جہاں تاجروں اور دکانداروں نے ان کے بیٹے کی موت کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
**وکیل کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط **
میر رضا علی کے والدین کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے وزیراعلیٰ سندھ کو 22 صفحات پر مشتمل خط ارسال کیا ہے، جس کی ایک نقل وزیراعظم شہبازشریفکو بھی بھیجی گئی ہے۔ وکیل نے نو پولیس افسران کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں ڈی آئی جی ایسٹ فاروق لنجر بھی شامل ہیں۔خط میں ان پولیس افسران کی مبینہ غفلت، طرز عمل اور میر رضا کیس میں ان کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وکیل نے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام پر زور دیا ہے کہ میر رضا کی موت سے متعلق حقائق سامنے لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، انہوں نے متعلقہ پولیس افسران کے کردار اور مبینہ غفلت کا مکمل اور غیر جانب دارانہ جائزہ لینے اور منصفانہ تحقیقات کے ذریعے تمام حقائق خاندان اور عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
**ڈاکٹر اسامہ سے 25 دن بعد پہلی تفتیش **
میر رضا کی لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ سے سندھ پولیس نے تقریباً 25 دن بعد پہلی مرتبہ تفتیش کی۔ ڈاکٹر اسامہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والی خامیوں پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ تفتیشی حکام نے ڈاکٹر اسامہ سے تقریباً پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ پولیس نے انہیں آئندہ بھی کیس کی تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کرنے کا پابند کیا ہے۔
سکیورٹی واپس لینے اور مشکوک گاڑیوں کے تعاقب کا دعویٰ
میر رضا کی بہن نے اپنے ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ خاندان کو فراہم کی گئی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے جبکہ کچھ مشکوک گاڑیاں خاندان کی نقل و حرکت کے دوران ان کا پیچھا کرتی ہیں۔ان کے مطابق خاندان کی درخواست پر ایک اہلکار کی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی، تاہم انہیں بتائے بغیر یہ سکیورٹی واپس لے لی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر مشکوک گاڑی ان کے خاندان کا پیچھا کرتے ہوئے گلی تک پہنچی، جبکہ بعد میں دو گاڑیوں کو ان کے پیچھے آتے دیکھا گیا۔ ان کے مطابق واقعے کے بعد والد کی اطلاع پر پولیس موبائل موقع پر پہنچی۔یہ دعویٰ کیس کے موجودہ حالات میں خاندان کی سکیورٹی سے متعلق ایک نیا سوال بھی سامنے لاتا ہے۔
**میر رضا کی رجسٹرڈ سِم حاصل، آخری 12 گھنٹے کی مصروفیات کی تفصیلات مرتب **
میر رضا قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے میر رضا کے نام پر رجسٹرڈ سِم حاصل کر لی ہے۔ پولیس کی درخواست پر متعلقہ موبائل کمپنی نے سِم جاری کی، جس کی ملکیت بائیومیٹرک اور دستاویزی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میر رضا کی والدہ کے نام منتقل کر دی گئی ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی سِم کے ڈیٹا کی مدد سے مزید تحقیقات آگے بڑھائے گی۔ پولیس کے مطابق سِم کے ذریعے میر رضا کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرکے بیک اپ ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس سے کیس میں اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا کی موت سے قبل آخری 12 گھنٹوں کی مصروفیات اور نقل و حرکت کی تفصیلات بھی مرتب کر لی ہیں۔
میر رضا آخری گھنٹوں میں سرمایہ کاری اور قرض کے حصول کی کوششوں میں مصروف رہے۔ 27 جولائی شام 5 بج کر 54 منٹ پر شارع فیصل پر احمد راجہ نامی شخص سے ان کی ملاقات ہوئی، جس میں 70 سے 80 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔ رات 7 بج کر 5 منٹ پر بینک کال کے ذریعے بہن کے نام پر ایک کروڑ روپے قرض کی منظوری کی اطلاع دی گئی۔
رات 8 بج کر 23 منٹ پر فاروق محمود نے فون کرکے سرمایہ کاری سے معذرت کی۔ رات 11 بج کر 50 منٹ پر میر رضا نے دوست عبدالرزاق کے ساتھ غفار کباب ہاؤس میں کھانا کھایا۔ رات 12 بجے انہوں نے صارم سید سے ہنگامی بنیادوں پر 3 کروڑ روپے قرض مانگا۔ ان کی سمارٹ واچ میں مالی آزادی اور قرض کی ادائیگی سے متعلق دعا بھی موجود ہونے کی اطلاع ہے۔
رات 12 بج کر 23 منٹ پر میر رضا نے گھر پر اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کیا، جبکہ رات 2 بج کر 42 منٹ پر فیس بک، لنکڈ اِن اور اسنیپ چیٹ اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے۔ رات 3 بج کر 10 منٹ پر ان کی منگیتر نے متعدد کالز اور پیغامات کیے، تاہم کوئی جواب نہیں ملا۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس غائب ہونے پر منگیتر نے پیغامات کے ذریعے تشویش کا اظہار بھی کیا۔
رات 3 بج کر 18 منٹ پر میر رضا نے اپنے اکاؤنٹس سے رقم والدین کے اکاؤنٹس میں منتقل کی۔ 3 بج کر 42 منٹ پر وہ گھر سے اپنی دکان پہنچے اور سکیورٹی گارڈ کا پستول لے کر روانہ ہوئے۔ رات 3 بج کر 53 منٹ پر وہ پستول کے ساتھ واپس گھر پہنچے۔
صبح 4 بج کر 9 منٹ پر میر رضا آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوئے۔ 4 بج کر 22 منٹ پر دوران سفر انہوں نے موبائل فون بند کرکے باہر پھینک دیا۔ 4 بج کر 35 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے جائے وقوعہ کے قریب پہنچے، جبکہ تقریباً تین منٹ بعد انہیں جائے وقوعہ کی سمت اکیلے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ دستیاب آخری سی سی ٹی وی فوٹیج لاش ملنے کے مقام سے تقریباً 100 سے 150 میٹر فاصلے کی بتائی گئی ہے۔
**جوڈیشل کمیشن اور جے آئی ٹی کا معاملہ **
میر رضا کیس میں 23 اگست کو ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق مراد علی شاہ نے میر رضا کے اہل خانہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا۔ ترجمان کے مطابق کمیشن غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کرے گا اور قیام کے 30 دن کے اندر سندھ حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اس کی مدت میں توسیع کی جا سکے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام متعلقہ محکموں اور افسران کو کمیشن سے تعاون کی ہدایت بھی کی ہے۔
24 اگست کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں تفتیشی افسر سراج لاشاری اور میر رضا کے اہل خانہ کے وکلا پیش ہوئے۔ تفتیشی افسر کی جانب سے مزید مہلت کی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے 7 ستمبر تک تفتیشی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ دانیال حسین کے کیس میں پیش رفت سے متعلق سوال پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ موبائل فون اور دیگر اشیا کی فرانزک رپورٹ ابھی موصول ہونا باقی ہے۔
دوسری جانب میر رضا کے والد میر حسین علی، والدہ مریم اور بہن علیشہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کے لیے درخواست دائر کر دی۔ اہل خانہ کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے شواہد کے تحفظ اور اب تک کی تحقیقات سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے لیے ہائی کورٹ کے جج کی نامزدگی سے متعلق سرکاری دستاویز ابھی تک خاندان کو فراہم نہیں کی گئی۔
جبران ناصر کے مطابق قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن ان مقدمات میں قائم کیا جاتا ہے جہاں متعلقہ کمیٹی کی سفارش موجود ہو، اس لیے اہل خانہ کی استدعا ہے کہ مختلف سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔
**جوڈیشل کمیشن کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری **
میر رضا کیس میں سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ سندھ ہائیکورٹ کی نامزدگی پر جسٹس عمر سیال پر مشتمل سنگل ممبر انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا ہے، جو میر رضا کی موت کے اصل حقائق اور حالات، پولیس کی تحقیقات اور پولیس افسران، میڈیکو لیگل افسران سمیت متعلقہ سرکاری اہلکاروں کے کردار کا جائزہ لے گا۔
کمیشن کو غفلت، فرائض سے کوتاہی، پیشہ ورانہ بدعنوانی، شواہد چھپانے یا ان میں ردوبدل اور حقائق پر پردہ ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ کمیشن مزید تحقیقات، فرانزک تجزیے اور قانونی یا محکمانہ کارروائی کے لیے سفارشات دے سکے گا۔ اسے گواہوں کو طلب کرنے، حلف پر بیانات ریکارڈ کرنے اور متعلقہ دستاویزات و ریکارڈ طلب کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ کمیشن کو 30 روز میں اپنی رپورٹ، نتائج اور سفارشات سندھ حکومت کو پیش کرنا ہوں گی، تاہم ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع کی جا سکے گی۔
دوسری جانب میر رضا کے والد میر حسین علی نے جوڈیشل کمیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان کو بتایا جائے کہ میر رضا کے ساتھ کیا ہوا اور جے آئی ٹی کیوں تشکیل نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے اعلان سے قبل حکومت نے خاندان سے رابطہ نہیں کیا۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میر رضا کے والدین سے حکومت پر اعتماد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن انصاف کی فراہمی کے لیے بنایا گیا ہے اور کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
**عدالتی پیش رفت **
میر رضا جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل سے متعلق درخواست پر سندھ ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ، پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر معاونت کے لیے طلب کرلیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت 31 اگست کو ہوگی۔ عدالت نے بنیادی طور پر یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا جے آئی ٹی تشکیل دینے کے لیے عدالت براہ راست ہدایت جاری کرسکتی ہے اور کیا عدالت جاری تفتیش یا رپورٹ جمع کرانے کے عمل میں تبدیلی یا اس کی نگرانی کرسکتی ہے۔
میر رضا علی کیس اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں ابتدائی اغوا کے مقدمے سے شروع ہونے والی تحقیقات قتل، طبی و فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ڈیٹا، موبائل فون، سمارٹ واچ، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی، مالی معاملات اور مقتول کے آخری رابطوں تک پھیل چکی ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم، بعد کے طبی معائنے اور کیمیائی تجزیوں میں سامنے آنے والے سوالات نے کیس کی تفتیش کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ پولیس مختلف رپورٹس اور شواہد کا باہمی تقابلی جائزہ لے رہی ہے۔
میر رضا کے اہل خانہ مسلسل شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ خاندان کی جانب سے پولیس کی ابتدائی تفتیش، طبی معائنے، شواہد کے تحفظ اور تفتیشی طریقہ کار پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد اب جوڈیشل کمیشن اور جے آئی ٹی کے معاملے نے بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو مزید مہلت دیتے ہوئے 7 ستمبر تک رپورٹ طلب کی ہے، جبکہ موبائل فون اور دیگر اشیا کی فرانزک رپورٹس بھی تفتیش کی آئندہ سمت کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔اب جسٹس عمر سیال پر مشتمل انکوائری کمیشن کو میر رضا کی موت کے حالات، پولیس اور میڈیکو لیگل نظام سے متعلق سوالات، شواہد کے تحفظ اور ممکنہ غفلت سمیت اہم پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔
اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی فرد کو میر رضا کے قتل کا ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ کیس میں طبی، کیمیائی، ڈی این اے، بیلسٹک، ڈیجیٹل اور دیگر فرانزک شواہد کے حتمی نتائج، آخری 12 گھنٹوں کی نقل و حرکت، سِم اور واٹس ایپ ڈیٹا، سی سی ٹی وی، جیو فینسنگ اور متعلقہ افراد کے بیانات اہم کڑیاں ہیں۔ ان شواہد کو ایک دوسرے سے ملا کر دیکھنا ہی اس بنیادی سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ میر رضا کے ساتھ آخری گھنٹوں میں کیا ہوا، ان کی موت کہاں اور کیسے ہوئی اور اس کے ذمہ دار کون تھے۔
بریکنگ نیوز اور تازہ ترین خبریں اب پائیں فون پر — وزٹ خبرنامہ ڈیجیٹل واٹس ایپ چینل
آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟
