لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان 3 ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔ خاندانی ذرائع اور ان کے وکیل خالد یوسف نے گرفتاری کی تصدیق کی ہے، تاہم پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق علیمہ خان اپر مال میں واقع اپنی رہائش گاہ سے جم جانے کے لیے روانہ ہوئی تھیں کہ پولیس نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کے ساتھ ان کا ڈرائیور بھی موجود تھا، جبکہ بعد میں ان کی گاڑی لٹن روڈ تھانے میں کھڑی پائی گئی۔
علیمہ خان کی گرفتاری کے معاملے میں Aleema Khan arrest کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ان کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کو پولیس نے حراست میں لینے کے بعد کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا۔
علیمہ خان کے وکیل خالد یوسف نے بھی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتاری سے قبل ان کی علیمہ خان سے فون پر بات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق گرفتاری کے وقت بھی علیمہ خان نے خاندان کے ایک فرد سے فون پر بات کی تھی۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان گھر سے باہر جارہی تھیں کہ انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ علیمہ خان کو کس وجہ سے گرفتار کیا گیا، تاہم اطلاعات ملی ہیں کہ انہیں کوٹ لکھپت جیل لے جایا گیا ہے۔
نورین نیازی نے مزید کہا کہ علیمہ خان کی گرفتاری سے حکمرانوں کے خوف کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق بیرسٹر گوہر نے بھی انہیں فون کرکے اس معاملے سے متعلق معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے وہ نہیں گھبرائیں گے اور اپنے بھائی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی پنجاب نے بھی علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ علیمہ خان کے علاوہ پی ٹی آئی کارکنوں کو بھی حراست میں لیا جارہا ہے۔
علیمہ خان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی نے یہ مارچ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سمیت دیگر مطالبات کے حق میں احتجاجی مہم کے سلسلے میں اعلان کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ کے تناظر میں ملک میں سیاسی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس دوران حکومتی سطح پر اسلام آباد میں مارچ داخل ہونے سے متعلق سخت مؤقف بھی سامنے آچکا ہے۔
ادھر علیمہ خان کی گرفتاری کے معاملے پر پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
بریکنگ نیوز اور تازہ ترین خبریں اب پائیں فون پر — وزٹ خبرنامہ ڈیجیٹل واٹس ایپ چینل
آگے آپ کہاں جانا چاہیں گے؟









